Menu
1980 سے جامعہ احیاء العلوم بالامبٹ، دیر لوئر ایمان اور علم کا ایک روشن مرکز رہا ہے۔ شعبہ تخصص فی الفقہ و الافتاء 2020 میں قائم کیا گیا، جو مفتی عبد الودود (جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل) کی نگرانی میں کام کر رہا ہے، جنہیں جامعہ حنفیہ کراچی اور تفہیم القرآن مردان میں خدمات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
موجودہ دور میں فتاویٰ کی اہمیت میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے، جہاں تجارت، روزگار، صنعت اور ٹیکنالوجی کے نئے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ اس شعبے میں اسلامی تحقیقی اصولوں کے مطابق ان مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے۔
جامعہ کے معزز مفتیانِ کرام اور علماء مقامی افراد کے سوالات کے جوابات تقریری اور تحریری دونوں صورتوں میں فراہم کرتے ہیں، اور گزشتہ تین سال کے سوالات کا ایک جامع مجموعہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ 2022 سے 2024 کے دوران 370 سے زائد مفتیانِ کرام فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، جو دنیا بھر میں قرآن و سنت کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔
یہ ایک سالہ کورس چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہے:
لیکچرز:
مقررہ نصابی کتب کی باقاعدہ تدریس
خود مطالعہ:
منتخب مواد کا خود سے مطالعہ
عملی مشقیں:
روزانہ پریکٹس سیشنز اور مسائل کا حل
تحقیقی مقالہ:
منتخب فقہی موضوعات پر مقالہ تحریر کرنا۔
یہ پروگرام اصولِ افتاء، فقہ، علومِ قرآن اور معاصر مسائل جیسے اہم مضامین پر مشتمل ہے، جسے جدید تدریسی طریقوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ طلبہ مستند کتب کا مطالعہ کرتے ہیں، روزانہ عملی مشقیں مکمل کرتے ہیں اور اسلامی تحقیقی اصولوں کو عملی زندگی میں لاگو کرتے ہیں۔ آخری مرحلے میں ہر طالب علم ایک جامع تحقیقی مقالہ تیار کرتا ہے جس میں اس کی علمی صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔
درس مواد:
جو درجہ ذیل مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اصول افتاء شرح عقود رسم المفتی،ادب المفتی والمستفتی آداب فتاوی نویسی ،قواعدالفقھیۃ المیسرۃ، علم الرجال،دراسۃ الاسانید، السراجی فی المیراث، آداب البحث والمناظرہ ،اصول تحقیق ،علوم آلقران ،قواعدالتفسیر ،جدید معاشیات ،جدید فقہی مسائل وغیرہ
یہ تمام تر محاضرات پروجیکٹر(projector) کی مدد سے پڑھائے جاتے ہیں ۔
نصاب مطالعہ :
جس میں درجہ ذیل کتب شامل ہیں ۔
بدایۃ المجتھد،المجلۃالاحکام العدلیۃ ،فتاویٰ حقانیہ ،رسائل ومسائل،تفھیم المسائل ،احکام القرآن للجصاص،بدائع الصنائع ، المغنی لابن قدامہ اور المحلی لابن حزم ظاہری شامل ہیں ۔
حل تمرینات:
روزمرہ کے بنیاد پر طلباء کو تمرینات اور سوالات حوالہ کئے جاتے ہیں، اسلام کا جو منہج تحقیق ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئےمسائل حل کئے جاتے ہیں
مقالہ جات:
سیشن کے آخری دو ماہ میں 100 سے 150 صفحات پرمشتمل فقہی موضوعات پرمقالہ ہر طالب العلم پر لازم ہوتا ہے۔
تخصص کے اس پروگرام میں طلبہ کو جدید اور کلاسیکی فقہی مسائل پر گہری اور منظم تحقیق کروائی جاتی ہے۔
ہر طالب علم کے لیے لازمی ہے کہ وہ منتخب موضوع پر 100 تا 150 صفحات پر مشتمل ایک جامع مقالہ (تھیسس) تحریر کرے، جس کے ذریعے اس کی تجزیاتی صلاحیتوں اور فقہ اسلامی پر گہری سمجھ کا اظہار ہو۔ یہ موضوعات حقیقی زندگی کے مسائل پر مبنی ہوتے ہیں، جن میں روایتی علمی ورثے کو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔
اسلامی قانون میں عرف و عادت کی حیثیت اور احکام میں اسکا اعتبار
جدید بدعات اور رسومات کا شرعی جائزہ
ناصبیہ اور ان کے نظریات
معاشرتی اور اخلاقی برائیاں اور ان کی جدید شکلیں
ذخیراندوزی اور اس کی جدیداور قدیم صورتیں اسلام ک نظر میں
عورت کی گواہی اور دیت پر وارد شبہات کا جائزہ
اسلام اور مخلوط نظام تعلیم اور معاشرے پر اس کے اثرات
خواتین کی سرجریاں اور ان کے احکام
جدید طریقہ ہائےضبط تولید اور اس کے مسائل
حقوق نسواں بل کا تجزیہ وتحلیل قرآن وسنت کی روشنی میں
خواتین گھریلوں تشدد ،واقعات اثرات اور روک تام
جدید بدعات اور رسومات کا شرعی جائزہ
ناصبیہ اور ان کے نظریات
معاشرتی اور اخلاقی برائیاں اور ان کی جدید شکلیں
ذخیراندوزی اور اس کی جدیداور قدیم صورتیں اسلام ک نظر میں
عورت کی گواہی اور دیت پر وارد شبہات کا جائزہ
اسلام اور مخلوط نظام تعلیم اور معاشرے پر اس کے اثرات
خواتین کی سرجریاں اور ان کے احکام
جدید طریقہ ہائےضبط تولید اور اس کے مسائل
حقوق نسواں بل کا تجزیہ وتحلیل قرآن وسنت کی روشنی میں
خواتین گھریلوں تشدد ،واقعات اثرات اور روک تام
جدید بدعات اور رسومات کا شرعی جائزہ
ناصبیہ اور ان کے نظریات
معاشرتی اور اخلاقی برائیاں اور ان کی جدید شکلیں
ذخیراندوزی اور اس کی جدیداور قدیم صورتیں اسلام ک نظر میں
عورت کی گواہی اور دیت پر وارد شبہات کا جائزہ
اسلام اور مخلوط نظام تعلیم اور معاشرے پر اس کے اثرات
خواتین کی سرجریاں اور ان کے احکام
جدید طریقہ ہائےضبط تولید اور اس کے مسائل
حقوق نسواں بل کا تجزیہ وتحلیل قرآن وسنت کی روشنی میں
خواتین گھریلوں تشدد ،واقعات اثرات اور روک تام
جامعہ عالیہ احیاء العلوم بلامبٹ، ضلع دیر لوئر کی انتظامیہ نے سال 2020 میں تخصص فی الفقہ الاسلامی والافتاء کا شعبہ قائم کیا۔ اس شعبہ کی نگرانی اور بنیاد مفتی عبد الودود صاحب کے ہاتھوں ہوئی، جو دارالعلوم کراچی کے فاضل اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔
مفتی عبد الودود صاحب نے تخصص فی الفقہ والافتاء کی بنیاد 2005 میں معروف جامعہ حنفیہ سعود آباد کراچی میں رکھی، جہاں آپ 2013 تک بطور سربراہ شعبہ اور دارالافتاء خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد 2013 سے 2020 تک اپنے مادرِ علمی جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان میں بھی اسی پروگرام کی نگرانی کرتے ہوئے اس کو مزید فروغ دیا۔
الحمدللہ! مختلف مدارس میں تخصص فی الفقہ والافتاء کے شعبہ جات کے قیام کا رجحان بڑی حد تک مفتی عبد الودود صاحب کی مسلسل محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔